مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل الشيء (فيستغليه) فيرد (هـ) ويرد معه (درهما) باب: اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 21637
٢١٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن أبي (معبد) (١) قال: سمعت جابر بن زيد سئل عن رجل ابتاع (دارًا) (٢) (أو) (٣) عقارا، فأراد أن يقيله، فأبى، فترك له عشرة (دراهم) (٤) أو عشرين درهما فأقاله، قال: لا بأس بذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے دکان یا زمین کو خریدا، پھر وہ اقالہ کرنا چاہتا ہے لیکن بائع راضی نہیں ہوتا، پھر وہ بائع کے لیے دس یا بیس دراہم چھوڑ دیتا ہے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (سعيد).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ك]: (درهم).