حدیث نمبر: 21629
٢١٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن عجلان قال: قلت لإبراهيم: إنا نشتري المتاع، ثم (نزيد) (١) عليه (القصارة) (٢) والكراء، ثم (نبيعه) (٣) (بزيادة) (٤) قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدا لرحمن بن عجلان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ہم لوگ سامان خریدتے ہیں اور پھر اس پر بار برداری اور کرایہ وغیرہ ڈال کر اسے نفع کے ساتھ بیچتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں۔

حواشی
(١) في [س]: (يزيد).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز]: (العصارة).
(٣) في [س]: (يبيعه).
(٤) في [ط]: (بدهنازده)، وفي [س]: (مدهنارده)، وفي [جـ]: (به مرابحه)، وفي [هـ]: (بدهيازده).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21629
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21629، ترقيم محمد عوامة 20784)