حدیث نمبر: 21558
٢١٥٥٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن حبيب أن رجلا بعث إلى (ذر) (١) بجا (ئزة) (٢) فقال للرسول: (ألكل) (٣) مسلم بعث بهذا؟ فقال: لا، ⦗٣٤١⦘ (فقال) (٤): رده، (وقال) (٥): ﴿كَلَّا إِنَّهَا لَظَى (٦) (١٥) نَزَّاعَةً لِلشَّوَى﴾ [المعارج: ١٥ - ١٦].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ذر کو ایک تحفہ بھجوایا، انہوں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا اس نے ہر مسلمان کو یہ ہدیہ بھیجا ہے، اس آدمی نے نفی میں جواب دیا اور حضرت ذر نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ آیت پڑھی : { کَلاَّ إِنَّہَا لَظَی نَزَّاعَۃً لِلشَّوَی }

حواشی
(١) في [هـ]: (زر).
(٢) سقط من: [س]، وفي [ز]: (جائزة).
(٣) في [أ، ب، س، هـ]: (أكل).
(٤) في [جـ]: (قال).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [س]: زيادة (نطق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21558
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21558، ترقيم محمد عوامة 20717)