مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أن يأكل منها إلا بإذن أهلها باب: جن حضرات کے نزدیک مالک کی اجازت کے بغیر نہیں کھا سکتا
حدیث نمبر: 21537
٢١٥٣٧ - حدثنا كثير بن هشام (عن) (١) جعفر بن (برقان) (٢) قال: نا يزيد بن الأصم قال: (تلقيت) (٣) عائشة (وهي مقبلة من مكة) (٤) أنا وابن (لطلحة) (٥) بن (عبيد اللَّه) (٦) وهو ابن أختها وقد كنا (وقعنا) (٧) في حائط من حيطان المدينة، فأكلنا منه، فبلغها ذلك فأقبلت على ابن أختها تلومه (وتعذله) (٨)، ثم أقبلت علي فوعظتني موعظة بليغة (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عاصم کہتے ہیں کہ میں اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملے، جب وہ مکہ سے واپس آرہی تھیں، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ ہم نے ایک باغ کی دیوار کے ساتھ پڑاؤڈالا اور اس باغ کے پھل کھائے، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے بھانجے کو ڈانٹا اور پھر مجھے بھی خوب نصیحت فرمائی۔
حواشی
(١) في [س]: (بن).
(٢) في [س]: (يرقان).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ك، هـ]: (بعثتنا)، وانظر: المستدرك (٦٧٩٩)، والحلية (٤/ ٩٧)، وسير أعلام النبلاء (٢/ ٢٤٣)، و (٥/ ٧٨).
(٤) سقط من: [أ، ب، هـ، س، جـ].
(٥) في [ب، س]: (طلحة).
(٦) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عبيد).
(٧) في [أ، ب، س، هـ]: (وقفنا).
(٨) سقط من: [أ، ب، س، هـ].