مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أن يأكل منها إلا بإذن أهلها باب: جن حضرات کے نزدیک مالک کی اجازت کے بغیر نہیں کھا سکتا
حدیث نمبر: 21535
٢١٥٣٥ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن أبي عبد الرحمن مولى سعد قال: نزلنا إلى (جانب) (١) حائط دهقان، فقال (لي) (٢) سعد: إن سرك أن (تكون) (٣) مسلما حقا فلا تصيبن منه شيئا، وأعطاني درهما وقال: (اشتر) (٤) ببعضه (تمرا) (٥) (أو غداء) (٦) و (ببعضه علفا) (٧) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدا لرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے ایک باغ کی دیوار کے ساتھ پڑاؤ ڈالا تو حضرت سعد نے مجھ سے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم حقیقی مسلمان بن جاؤ تو اس میں سے کچھ نہ لینا، پھر انہوں نے مجھے ایک درہم دیا اور فرمایا کہ اس کے کچھ حصے سے پھل اور کھانا اور دوسرے سے چارہ خرید لو۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (يكون)، وفي [ط]: (يكن).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ك]: (اشتري)، وفي [ط]: (شترى).
(٥) في [ب، س]: (تمر)
(٦) في [أ، ز، ك]: (أو بعددًا)، وفي [ب]: (بعدادا)، وكذلك في [ط]، وفي [جـ]: (أو عدًا)، وفي [س]: (تعدادا)، وسقط من [هـ].
(٧) في [س]: (بعضه علقًا).
(٨) مجهول؛ لجهالة أبي عبد الرحمن، أخرجه مسدد كما في المطالب (١٤٢١)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان (١/ ٣٧٩)، والطحاوي (٤/ ٢٤٣).