٢١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى قال: حدثنا أصحابنا أن رجلًا من الأنصار جاء (إلى النبي ﷺ) (١) فقال: يا رسول اللَّه إني لما رجعت البارحة ورأيت من اهتمامك رأيت كأن رجلًا قائمًا على المسجد عليه ثوبان أخضران فأذن، ثم قعد قعدة، ثم قام فقال مثلها غير أنه قال: قد قامت الصلاة، ولولا أن تقولوا لقلت: إني كانت يقظانا غير نائم، فقال النبي ﷺ: "لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"، فقال عمر: أما إني قد رأيت مثل الذي رأى غير أنى لما سبقت استحييت، فقال النبي ﷺ: "مُرُوا بلالًا فَلْيُؤَذِّن" (٢).ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! گذشتہ رات جب میں نے آپ کی فکر دیکھی اور آپ کے پاس سے واپس گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہے اور اس پر دو سبز کپڑے ہیں۔ اس نے اذان دی، پھر وہ ایک مرتبہ بیٹھا پھر اس نے اسی طرح اقامت کہی البتہ اقامت میں قد قامت الصلاۃ کے الفاظ کا اضافہ تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خیر دکھائی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے بھی خواب میں یہی کچھ دیکھا تھا لیکن اسے بیان کرتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں۔