٢١٤٠٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن (عمرو) (١) بن مهاجر أن عمر بن ⦗٣٠١⦘ عبد العزيز بعث (عميرة) (٢) بن (يزيد) (٣) الفلسطيني يبيع السبي فيمن يزيد، فلما (فرغ) (٤) جاءه فقال له عمر: كيف كان (البيع اليوم) (٥)؟ فقال: (إن) (٦) كان (كاسدا) (٧) يا أمير المؤمنين، لولا أني كنت أزيد عليهم فأُنفِّقه، (فقال) (٨) عمر: كنت تزيد (هـ) (٩) عليهم ولا (تريد) (١٠) أن تشتري؟ فقال: نعم! قال عمر: هذا (١١) النجش لا يحل، ابعث يا (عميرة) (١٢) مناديا ينادي ألا إن البيع مردود، (١٣) إن النجش لا يحل.حضرت عمرو بن مہاجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عمیرو بن یزید فلسطینی کو بھیجا تاکہ وہ قیدیوں کو نیلام کردیں۔ جب وہ فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ آج کی بیع کسی رہی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اے امیر المؤمنین ! اگر میں خود بیچ میں جا کر بھاؤ نہ بڑھاتا تو آج مندا ہوجاتا۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم محض بھاؤ بڑھانے کے لیے خریدنے کے ارادے کے بغیر بولی لگاتے رہے ؟ انہوں نے اقرار کیا تو حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ نجش ہے یہ حلال نہیں، اے عمیرہ ! اعلان کرو دو کہ بیع مردود ہے اور نجش حلال نہیں ہے۔