حدیث نمبر: 21371
٢١٣٧١ - حدثنا ابن أبي زائدة (عن) (١) داود قال: قلت لعامر: (رجل) (٢) اشترى (بزا) (٣) (إلى) (٤) أجل (فحبسه) (٥) و (عكمه) (٦) ووضعه في منزل البائع ولم (يحبسه) (٧) رهنا بالمال، (فاحترق المال) (٨) قال: من مال البائع.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت داود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور اسے تیار کر کے بائع کے مکان میں ہی چھوڑ دیا اور اسے مال کا رہن تصور نہ کیا تو کیا حکم ہے اگر وہ مال جل جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بائع کا نقصان ہوا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (هو)، وفي [جـ]: (عن).
(٢) في [س]: (لرجل)، في [ز]: (برجل).
(٣) في [أ، ب]: (بر).
(٤) في [ط]: مكررة.
(٥) في [هـ]: (فحبسه)، وفي [س]: (فحبه).
(٦) في [هـ]: (عكرمه).
(٧) في [أ، ب]: (يحتسبه)، وفي [جـ، س، ك]: (يحتبسه).
(٨) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21371
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21371، ترقيم محمد عوامة 20538)