مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: (لا) تجوز الصدقة حتى (تقبض) باب: جن حضرات کے نزدیک قبضے سے پہلے صدقہ و زکوۃ معتبر نہیں
حدیث نمبر: 21337
٢١٣٣٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة أن أبا بكر كان (نحلها) (١) (جداد) (٢) عشرين وسقا، فلما حُضِر قال: لها: وددت أنك ⦗٢٨٥⦘ كنت (حزتيه) (٣) أو (جددتيه) (٤)، وإنما هو اليوم مال الوارث (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیس وسق کی مقدار ایک ہدیہ دیا۔ جب ان کا وصال ہونے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ بہتر تھا کہ تم اس پر قبضہ کرلیتیں کیونکہ اب وہ ورثاء کا مال بن گیا۔
حواشی
(١) في [أ]: (بحلها)، وفي [ب]: (بخلها)، وفي [س]: (تحلها).
(٢) في [ب]: (جذاذ)، وفي [س]: (حداد).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (خزنته)، وفي [س، ط]: (خزينة)، وفي [هـ]: (خزنتيه).
(٤) في [ب]: (جذدتيه)، وفي [س]: (حدوديته).