مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: (لا) تجوز الصدقة حتى (تقبض) باب: جن حضرات کے نزدیک قبضے سے پہلے صدقہ و زکوۃ معتبر نہیں
حدیث نمبر: 21333
٢١٣٣٣ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) همام عن قتادة (٢) عن النضر بن (أنس) (٣) قال: (نحلني) (٤) (أبي) (٥) نصف داره، فقال أبو (بردة) (٦): (إن) (٧) (سرك) (٨) أن (تجوز) (٩) ذللث فاقبضه، فإن عمر بن الخطاب قضى في ⦗٢٨٤⦘ (الأنحال) (١٠) (أن) (١١) (ما) (١٢) قبض منه فهو جائز، وما لم يقبض منه فهو ميراث (١٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنا گھر اپنی خوشی سے دے دیا۔ ابو بردہ نے مجھ سے فرمایا کہ صدقہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ تم اس پر قبضہ کرلو۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ خوشی سے دئیے گئے ہدیہ میں قبضہ ہو تو وہ جاری ہوتا ہے وگرنہ وہ میراث میں جاتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن الحسن).
(٣) في [س]: (يونس).
(٤) في [ب]: (نجلنى)، وفي [س]: (تحيا).
(٥) في [س]: (إلى).
(٦) في [س]: (سودة).
(٧) سقط من: [أ، ب، س، ط].
(٨) في [هـ]: (شرك). وفي [هـ]: (تحوز).
(٩) في [أ، ب، س]: (يجوز)، وفي [ط]: (يحوز).
(١٠) في [ب]: (الانجال)، وفى [س]: (المال)، والانحال: الهبات.
(١١) سقط: [أ، ب، جـ، س، ط].
(١٢) سقط من: [ز].
(١٣) منقطع، أبو بردة لم يدرك عمر.