حدیث نمبر: 21325
٢١٣٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن الزهري قال: تصدق رجل بمائة دينار على ابنه، وهما شريكا (ن) (١)، والمال في (يدي) (٢) (ابنه) (٣). قال: لا ⦗٢٨١⦘ يجوز حتى (يحوزها) (٤)، قضى أبو بكر وعمر: (أنه) (٥) إن لم (يحز) (٦) فلا شيء له (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو ایک سو دینار صدقہ میں دیئے۔ وہ دونوں شریک تھے اور مال بیٹے کے سامنے تھا۔ تو یہ صدقہ اس وقت تک درست نہیں جب تک وہ قبضہ نہ کرلے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ اگر ا س نے قبضہ نہ کیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [س]: (اليدى)، وفي [جـ]: (يد).
(٣) في [س]: (أنه)، ولعل الصواب (أبيه).
(٤) في [أ، ب]: (يجوزها)، وكذلك في [س]، وفي (ط): (بحوزها).
(٥) في [جـ، ك، ز]: زيادة (أنه).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (يجز).
(٧) منقطع؛ الزهري لم يدرك أبا بكر وعمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21325
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21325، ترقيم محمد عوامة 20494)