حدیث نمبر: 21308
٢١٣٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الشعبي أنه أتاه رجل [فقال: (إني) (١) (دفعت) (٢)] (٣) إلى رجل مالا مضاربة، فانطلق حتى إذا ⦗٢٧٧⦘ بلغ حلوان مات، فانطلقت (فوجدت) (٤) (كيسي) (٥) بعينه، فقال عامر: ليس لك دون الغرماء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے سوال کیا کہ میں نے ایک آدمی کو مضاربت کے لیے کچھ مال دیا تھا، وہ سفر تجارت کے لیے نکلا اور حلوان میں اس کا انتقال ہوگیا۔ میں پیچھے گیا اور میں نے دیکھا کہ میری دی ہوئی تھیلی بعینہٖ موجود ہے۔ حضرت عامر نے فرمایا کہ قرض خواہوں کو چھوڑ کر تو نہیں لے سکتا۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (رفعت).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ط].
(٤) في [س]: (فدجدت).
(٥) في [ط]: بياض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21308، ترقيم محمد عوامة 20477)