مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في) الرجل يهوق أو يفلس وعنده سلعة بعينها باب: اگر کوئی آدمی مر جائے یا مفلس ہو جائے اور اس کے پاس سامان ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21308
٢١٣٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الشعبي أنه أتاه رجل [فقال: (إني) (١) (دفعت) (٢)] (٣) إلى رجل مالا مضاربة، فانطلق حتى إذا ⦗٢٧٧⦘ بلغ حلوان مات، فانطلقت (فوجدت) (٤) (كيسي) (٥) بعينه، فقال عامر: ليس لك دون الغرماء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے سوال کیا کہ میں نے ایک آدمی کو مضاربت کے لیے کچھ مال دیا تھا، وہ سفر تجارت کے لیے نکلا اور حلوان میں اس کا انتقال ہوگیا۔ میں پیچھے گیا اور میں نے دیکھا کہ میری دی ہوئی تھیلی بعینہٖ موجود ہے۔ حضرت عامر نے فرمایا کہ قرض خواہوں کو چھوڑ کر تو نہیں لے سکتا۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (رفعت).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ط].
(٤) في [س]: (فدجدت).
(٥) في [ط]: بياض.