حدیث نمبر: 21305
٢١٣٠٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن برد عن مكحول أنه قال: في المفلس يجد عنده (١) الرجلُ متاعهَ بعينه قال: إن كان أخذ من ثمنه شيئًا فهو أسوة الغرماء وإلا فهو له.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر کسی مفلس ہوجانے والے شخص کے پاس کسی شخص کا مال بعینہ موجود ہو تو وہ اسی کا ہے البتہ اگر اس کی ثمن حاصل ہوئی ہو تو وہ قرض خواہوں کے حصے میں آئے گی۔

حواشی
(١) في [د]: زيادة (مال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21305
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21305، ترقيم محمد عوامة 20474)