مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في) الرجل يهوق أو يفلس وعنده سلعة بعينها باب: اگر کوئی آدمی مر جائے یا مفلس ہو جائے اور اس کے پاس سامان ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21303
٢١٣٠٣ - حدثنا ابن عيينة وعبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر (ابن محمد) (١) (بن عمرو) (٢) بن حزم عن عمر بن عبد العزيز أن أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث (أخبره) (٣) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من وجد ماله بعينه عند رجل قد أفلس فهو أحق به من غرمائه" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا مال کسی ایسے آدمی کے پاس بعینہٖ موجود ہو جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ غرماء سے زیادہ مستحق ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (مكررة).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ط].
(٣) في [س]: (أجره).