مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في) الرجل يهوق أو يفلس وعنده سلعة بعينها باب: اگر کوئی آدمی مر جائے یا مفلس ہو جائے اور اس کے پاس سامان ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21302
٢١٣٠٢ - حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن (بشير) (١) بن (نَهِيك) (٢) عن أبي (هريرة) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا أفلس الرجل فوجد (٤) سلعته قائمة بعينها فهو أحق بها من الغرماء" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص مفلس ہوجائے اور اس کا سامان بعینہ موجود ہو تو وہ قرض خواہوں سے زیادہ مستحق ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (بشر).
(٢) في [س]: (ظيك).
(٣) في [س]: (هرهرة).
(٤) في [هـ، س]: زيادة (الرجل).
(٥) منقطع حكمًا؛ قتادة مدلس، وقد صرح قتادة بسماع الحديث من النضر بن أنس عن بشير كما عند البيهقي ٦/ ٤٦، وأبي عوانة (٥٢٢٧)، وأحمد ٢/ ٤٦٨ (١٠٠٤٩)، والحديث أخرجه عبد الرزاق (١٥١٥٩)، ومسلم (١٥٥٩)، وبنحوه عند البخاري (٢٤٥٢).