مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يل فع إلى الخياط الثوب فيقطعه باب: ایک آدمی درزی کو کپڑے دے اور درزی انہیں کاٹ دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21257
٢١٢٥٧ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي (خلدة) (١) قال: سألت عكرمة وأبا العالية فقلت: إني رجل خياط (أ) (٢) قطع الثوب و (أواجره) (٣) (بأقل) (٤) ⦗٢٦٥⦘ مما آخذه (به) (٥) قالا: تعمل فيه شيئًا؟ قلت: نعم! أقطعه وأضمه (قالا) (٦): لا بأس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت ابو العالیہ سے سوال کیا کہ میں درزی ہوں اور کپڑے سیتا ہوں میں جتنا اس میں سے لیتا ہوں اس سے کم اجرت طے کرتا ہوں، ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم اس میں کوئی کام کرتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں میں کاٹ کر اسے سیتا ہوں، انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [س]: (جلدة).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [س]: (أجره).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) سقط من: [جـ، س].
(٦) في [جـ]: (قال).