حدیث نمبر: 21220
٢١٢٢٠ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أنه كان لا يرى بأسا أن تأخذ (ثقة) (١) بمالك، فقال له رجل: (إن) (٢) قوما يكرهون (القبيل) (٣) ولا يرون بالكفيل بأسًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مال کی حفاظت کا معاہدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے ایک آدمی نے کہا کہ ایک قوم کے لوگ سلم میں مطلق کفیل کو ناپسند سمجھتے ہیں اور نفوس کے کفیل میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (نفقة).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [س]: (فتيل)، والقبيل ضامن المال، والكفيل: متعهد إحضار البدن.