حدیث نمبر: 21217
٢١٢١٧ - حدثنا أبو أسامة عن خالد بن دينار قال: سألت سالما عن الرهن في السلم فقرأ! (فرهان) (١) مقبوضة) كأنه لم ير (به) (٢) بأسًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سلم میں رہن کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی (فرھان مقبوضۃ) گویا ان کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (فرهن).
(٢) سقط من: [س].