حدیث نمبر: 21135
٢١١٣٥ - حدثنا عبدة عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يتخذ كلبًا يحرس داره فقال: لا خير (فيه) (١) إلا أن يكون كلب صيد.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر کتا گھر کی رکھوالی کے لیے رکھا جائے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی خیر نہیں البتہ اگر شکار کے لیے ہو تو پھر ٹھیک ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (في).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21135، ترقيم محمد عوامة 20316)