مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في اتخاذ الكلب وما ينقص من أجره باب: کتا پالنے کی مذمت اور اس کی وجہ سے ثواب کا نقصان
حدیث نمبر: 21131
٢١١٣١ - حدثنا خالد بن مخلد عن مالك بن أنس عن يزيد بن (خصيفة) (١) عن السائب بن يزيد عن سفيان (بن) (٢) أبي زهير قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من اقتنى (كلبًا) (٣) لا يغني عنه (زرعًا ولا ضرعًا) (٤) نقص من (أجره) (٥) كل يوم قيراط" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کسی اور غرض کے لیے کتا پالا تو اس کے ثواب سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [س]: (حفصة).
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (قلبًا).
(٤) في [أ، ب، س، هـ]: (زرع ولا ضرع)، وفي [س]: بعدها زيادة (و).
(٥) في [أ، ب]: (أمر).