مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في اتخاذ الكلب وما ينقص من أجره باب: کتا پالنے کی مذمت اور اس کی وجہ سے ثواب کا نقصان
حدیث نمبر: 21130
٢١١٣٠ - حدثنا عفان نا (سليم) (١) بن (حيان) (٢) قال: سمعت أبي يحدث عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "من اتخذ كلبا ليس بكلب (زرع) (٣) ولا صيد ولا ماشية (فإنه ينقص) (٤) من أجره كل يوم قيراط" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے زراعت، شکار یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالا، اس کے ثواب سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (سليمان).
(٢) في [ط، هـ]: (حبان).
(٣) في [س، ط، هـ]: (الزرع).
(٤) في [هـ]: (نقص).
(٥) مجهول؛ لجهالة حيان، أخرجه أحمد (٨٥٤٧)، وأصله عند البخاري (٣٣٢٤)، ومسلم (١٥٧٥).