مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في اتخاذ الكلب وما ينقص من أجره باب: کتا پالنے کی مذمت اور اس کی وجہ سے ثواب کا نقصان
حدیث نمبر: 21122
٢١١٢٢ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عبد اللَّه بن دينار قال: ذهبت مع ابن عمر إلى بني معاوية (فنبحت) (٢) علينا (كلاب) (٣) فقال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من اقتنى كلبًا إلا كلب ضارية أو ماشية نقص من أجره كل يوم (قيراطان) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بنو معاویہ کی طرف گیا۔ وہاں کچھ کتے ہم پر بھونکے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے شکار یا مریض کی حفاظت کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالا تو اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کی کمی کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [س]: (عينة).
(٢) في [س]: (فتجبت).
(٣) في [س]: (الكلاب).
(٤) في [س]: (قيرطان).