حدیث نمبر: 2108
٢١٠٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (هشام) (١) بن سعد قال: حدثنا زيد ابن أسلم عن عمرو بن سعد الجاري -وكان مولى عمر- قال: أتانا عمر (صادرا) (٢) عن الحج في نفر من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، فقال: (يا ابن سعد) (٣) أبغنا مناديل، فأتى بمناديل فقال: اغتسلوا فيه، فإنه مبارك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت عمر حج سے واپسی پر صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ اے سعد ہمارے پاس رومال لاؤ، آپ کے پاس رومال لائے گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان میں غسل کرو یہ بابرکت چیز ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، خ، هـ]: (هشيم)، وسط في [د].
(٢) في [أ]: (ساطرًا).
(٣) في [د]: (يا ابن سعد) وفي بقية النسخ: (يا سعد).
(٤) مجهول؛ لجهالة عمرو بن سعد الجاري.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 2108
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2108، ترقيم محمد عوامة 2102)