حدیث نمبر: 21076
٢١٠٧٦ - حدثنا يونس بن محمد نا (جرير) (١) بن حازم عن نافع عن (سائبة) (٢) مولاة لفاكه بن المغيرة أنها دخلت على عائشة، فرأت في بيتها رمحا موضوعا، فقالت: يا أم المؤمنين! ما تصنعين بهذا؟ قالت: نقتل (بها) (٣) هذه (الأوزاغ) (٤) فإن (النبي) (٥) ﷺ (أخبرنا) (٦) أن إبراهيم خليل اللَّه لما ألقي في النار لم تكن (دابة في الأرض) (٧) إلا أطفات النار عنه، غير (الوزغ) (٨)؛ فإنه كان ⦗٢١٩⦘ ينفخ عليه فأمر رسول اللَّه ﷺ بقتله (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت فاکہ بن مغیرہ کی مولاۃ حضرت سائبہ فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ان کے پاس حاضر ہوئی تو وہاں ایک نیزہ پڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اے ام المؤمنین ! آپ اس نیزے کا کیا کریں گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس سے چھپکلیوں کو قتل کریں گے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب خلیل اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین پر موجود ہر جانور آگ کو بجھا رہا تھا جبکہ چھپکلی آپ پر پھونکیں مار کر اسے اور زیادہ بھڑکا رہی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔

حواشی
(١) في [س]: (جوبير).
(٢) في [أ، جـ، ز، ط، ك]: (صادنة)، وفي [س]: (خادمه)، وفي [هـ]: (صادقة).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (به).
(٤) في [ز، س]: (الأوزاع).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (نبى اللَّه).
(٦) في [س، ط]: (أنا).
(٧) في [جـ، ز، ك]: (في الأرض دابة).
(٨) في [ز]: (الوزع).
(٩) مجهول، لجهالة سائبة، أخرجه أحمد (٣٤٥٣٤)، وابن ماجة (٣٢٣١)، وعبد الرزاق (٨٣٩٢)، وأبو يعلى (٤٣٥٧)، والمزي في ترجمته (سائبة) ٣٥٢/ ١٩٢، وابن حبان (٥٦٣١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21076
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21076، ترقيم محمد عوامة 20258)