مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
ما قالوا فما الطير والشاة (ترمي) حقى (تموت) باب: اگر مرغی یا بکری وغیرہ کو تیر مارا جائے اور وہ مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21042
٢١٠٤٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج عن عبيد بن (تعلى) (٢) عن أبي أيوب قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (ينهى) (٣) عن صبر البهيمة، وما أحب أني (صبرت) (٤) دجاجة، ولا أن لي كذا وكذا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے سے منع فرمایا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں ایک مرغی کو بھی اس طرح باندھ کر ہلاک کروں اور مجھے اس کے بدلے فلاں فلاں چیز مل جائے۔
حواشی
(١) في [ط]: (بكر).
(٢) في [أ، س، هـ]: (يعلى).
(٣) في [أ، ب]: (نهى).
(٤) في [ط]: (ضبرت).
(٥) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، والأمر على أن بكيرًا يرويه عن أبيه كما في تهذيب الكمال ١٩/ ١٩١، وأخرجه أحمد (٢٣٥٨٩)، وأبو داود (٢٦٨٧)، وابن حبان (٥٦١٠)، والدارمي (١٩٧٤)، والطحاوي ٣/ ١٨٢، والاشي (١١٦٠)، والبيهقي ٩/ ٧١، وسعيد بن منصور (٢٦٦٧)، والمزي ١٩/ ١٩٠.