مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
ما قالوا فما الطير والشاة (ترمي) حقى (تموت) باب: اگر مرغی یا بکری وغیرہ کو تیر مارا جائے اور وہ مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21039
٢١٠٣٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر على أناس من الأنصار (قد) (١) وضعوا حمامة (٢) يرمونها فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ[[أن يتخذ الروح (غرضًا) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتری رکھی ہوئی تھی اور اسے تیر مار رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ذی روح کو نشانہ بازی کے لیے ہدف بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حواشی
(١) زيادة (الواو) في [أ، ب]: (وقد).
(٢) في [ز، ك]: زيادة (وهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (عرضًا).