حدیث نمبر: 21028
٢١٠٢٨ - حدثنا ابن نمير عن أبي شهاب موسى بن نافع عن (النعمان) (١) بن علي قال: مرَّ سعيد بن جبير على نعامة (ملقاة) (٢) على (الكناسة) (٣)، (تحرك) (٤) فقال: ما (هذه؟) (٥) فقالوا: نخاف أن (تكون) (٦) موقوذة؟ فقال: كدتم تدعوها للشيطان، إنما الوقيذ ما مات في وقيذة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نعمان بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر ایک شتر مرغ کے پاس سے گذرے جسے کوڑے میں پھینکا گیا اور وہ حرکت کر رہا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے مردار سمجھ کر ڈال دیا۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ اسے شیطان کے لیے کیوں چھوڑتے ہو۔ مردار تو وہ ہوتا ہے جو ساکن ہوجائے۔

حواشی
(١) في [س]: (النعمن).
(٢) في [س]: (فلقاه).
(٣) في [جـ]: (كناسة).
(٤) في [هـ]: (تتحرك).
(٥) في [س]: (هذا).
(٦) في [س]: (يكون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21028
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21028، ترقيم محمد عوامة 20210)