حدیث نمبر: 21017
٢١٠١٧ - حدثنا (١) وكيع عن عبد العزيز بن (سياه) (٢) عن أبي راشد السلماني قال: كنت أرعى (منائح) (٣) لأهلي بظهر الكوفة يعني (العشار) (٤) قال: ⦗٢٠٣⦘ فتردى منها بعير فخشيت أن يسبقني (بذكاته) (٥)، فأخذت حديدة فوجأت بها في جنبه أو (٦) (سنامه) (٧)، ثم قطعته أعضاء و (فرقته) (٨) على سائر أهلي، ثم أتيت أهلي فأبوا أن يأكوا حيث أخبرتهم خبره، فأتيت عليًّا فقمت على باب قصره فقلت: يا أمير المؤمنين! (يا أمير المؤمنين) (٩)! فقال: لبيكاه لبيكاه! فأخبرته خبره فقال (١٠): كل و (أطعمني) (١١) عجزه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو راشد سلمانی فرماتے ہیں کہ میں اپنی حاملہ اونٹنیوں کو کوفہ کے پاس چرا رہا تھا کہ ایک اونٹ پانی میں بری طرح پھنس گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ ذبح کرنے سے پہلے اس کی جان نکل جائے گی، چناچہ میں نے ایک لوہا پکڑا اور اس کی کمر یا اس کے کوہان میں مار دیا۔ پھر میں نے اس کے ٹکڑے کردیئے اور اپنے گھر والوں کو دے دئیے۔ لیکن انہوں نے ساری تفصیل سن کر اسے کھانے سے انکار کردیا۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان کے محل کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر میں نے آواز لگائی : اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ میں نے انہیں پوری بات سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ اسے کھالو اور اس کے پچھلے حصے کا گوشت مجھے دے دو ۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (أن)، وفي المحلى ٧/ ٤٤٧: (ابن عيينة)، بدل (وكيع) وأخرجه ابن حجر في تغليق التعليق ٤/ ٥١٧، عن وكيع، وانظر: طبقات ابن سعد ٦/ ٢٣٩.
(٢) في [أ، ب]: (سباه)، وفي [ط]: (سياه)، وفي [س]: (سماء).
(٣) في [أ، ب]: (مناتح).
(٤) في [س]: (العشاء).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (بذكاته).
(٦) في [هـ]: زيادة (في).
(٧) في [ز]: (سنابية).
(٨) في [س]: (فرقتم).
(٩) سقط في: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب، ز، ط، ك]: (فقال).
(١١) في [ز]: (أطعمك).
(١٢) مجهول؛ لجهالة أبي راشد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21017، ترقيم محمد عوامة 20200)