حدیث نمبر: 21000
٢١٠٠٠ - حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أن غلامًا من بني حارثة كان يرعى لقحة لنا (١) فأتاها الموت وليس معه ما يذكيها فأخذ (وتدًا) (٢) فنحرها فسأل النبي ﷺ (فأمره) (٣) بأكلها (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ بنو حارثہ کا ایک غلام اپنی حاملہ اونٹنی کو احد پہاڑ کے پاس چرا رہا تھا، وہ اونٹنی اچانک مرنے لگی، اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اسے ذبح کرتا، اس نے باندھنے کی کھونٹی اٹھائی اور اسے نحر کردیا، پھر اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔

حواشی
(١) في [جـ، ز، ك]: زيادة (فأخذ).
(٢) في [جـ]: (وته).
(٣) في [جـ]: (فأمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21000
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عطاء تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٨٦٢٦)، وأخرجه متصلًا من طريق عطاء عن رجل من بني حارثة: أحمد (٢٣٦٤٧)، وأبو داود (٢٨٢٣)، والبيهقي ٩/ ٢٥٠، ومن طريق عطاء عن أبي سعيد أخرجه النسائي ٧/ ٢٢٥، وابن عدي ٢/ ٥٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21000، ترقيم محمد عوامة 20183)