حدیث نمبر: 20994
٢٠٩٩٤ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا (جرير) (٢) عن منصور عن إبراهيم قال: جاء أعرابي إلى الأسود فقال له: اذبح بالمروة، فقال له الأسود: (لا) (٣)! فلما ⦗١٩٥⦘ قفى الأعرابي قلت (٤): (أليس) (٥) لا بأس أن (يذبح) (٦) بالمروة؟ قال: إنما هذا (يريد) (٧) أن يفصد بعيره فإذا مات قال (٨): ذكيته.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت اسود کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا میں نوکیلے پتھر سے ذبح کرسکتا ہوں ؟ حضرت اسود نے فرمایا نہیں۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا کہ کیا نوکیلے پتھر سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ شخص اپنے اونٹ کو داغنا چاہتا تھا جب وہ مرجاتا تو یہ کہتا کہ میں نے اسے ذبح کیا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ز، ك].
(٢) في [جـ]: (جريح).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [جـ]: زيادة (قلت).
(٥) في [أ، ب]: (ألسن).
(٦) في [ب]: (تذبح).
(٧) في [س]: (يزيد)، وفي [ك]: (تريد).
(٨) في [ط]: زيادة (و).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20994، ترقيم محمد عوامة 20177)