حدیث نمبر: 20988
٢٠٩٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن إسماعيل (بن سميع) (٢) عن أبي (الربيع) (٣) سئل ابن عباس عن ذبيحة القصبة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٤) فقطعت الأوداج كقطع السكين وذكر اسم اللَّه فكل، وإذا (ثلغت ثلغًا) (٥) فلا تأكل، وسألته عن ذبيحة الئروة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٦) فقطعت الأوداج فكل (و) (٧) إذا (ثلغت) (٨) (ثلغًا) (٩) فلا تأكل (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو چھری نہ ملے اور وہ بانس کی دھار سے ذبح کر دے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ چھری کی طرح رگیں کاٹ دے اور اس پر ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھالو اور اگر اس سے رگیں نہ کٹیں اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔ میں نے ان سے چھری نہ ملنے کی صورت میں نوکیلے پتھر سے ذبح شدہ جانور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ رگوں کو کاٹ دے تو کھالو اور اگر رگوں کو نہ کاٹ سکے اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔

حواشی
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) في [س]: سقطت.
(٣) في [أ، ب]: (الربيع)، وفي [س، هـ]: (ربيع).
(٤) في [جـ، ز، س، ط]: (قرب)، وفي [هـ]: (برت).
(٥) في [هـ، ط]: (بلغت بلغًا)، وثلغت: شدخت، انظر: غريب الحديث لأبي عبيد ٢/ ٢٥، ومعجم مقاييس اللغة ١/ ٣٨٦.
(٦) في [جـ، ز]: (قرب)، وفي [هـ، ط]: (برت).
(٧) في [س]: سقطت.
(٨) في [س، هـ]: (بلغت).
(٩) في [س]: (بليغًا)، وفي [ب]: (ثلعًا)، وفي [هـ]: (بلغًا)، وفي [ع]: (تلعًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٧٨٠)، وأبو داود (٢٨٢٢)، والنسائي ٧/ ١٩٧، وابن ماجة (٣١٧٥)، وابن حبان (٥٨٨٧)، والطبراني ١٩/ (٥٢٨)، والبيهقي ٩/ ٣٢٠، والدارمي ٢/ ٩٢، والحاكم ٤/ ٢٣٥، وابن عبد البر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20988، ترقيم محمد عوامة 20171)