مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
من قال: إذا أنهر الله فكل ما خلا سنا أو عظما باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ناخن اور ہڈی کے علاوہ ہر وہ چیز جو خون بہائے اس سے ذبح کرنا جائز ہے
٢٠٩٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن إسماعيل (بن سميع) (٢) عن أبي (الربيع) (٣) سئل ابن عباس عن ذبيحة القصبة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٤) فقطعت الأوداج كقطع السكين وذكر اسم اللَّه فكل، وإذا (ثلغت ثلغًا) (٥) فلا تأكل، وسألته عن ذبيحة الئروة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٦) فقطعت الأوداج فكل (و) (٧) إذا (ثلغت) (٨) (ثلغًا) (٩) فلا تأكل (١٠).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو چھری نہ ملے اور وہ بانس کی دھار سے ذبح کر دے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ چھری کی طرح رگیں کاٹ دے اور اس پر ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھالو اور اگر اس سے رگیں نہ کٹیں اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔ میں نے ان سے چھری نہ ملنے کی صورت میں نوکیلے پتھر سے ذبح شدہ جانور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ رگوں کو کاٹ دے تو کھالو اور اگر رگوں کو نہ کاٹ سکے اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔