مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
من قال: إذا أنهر الله فكل ما خلا سنا أو عظما باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ناخن اور ہڈی کے علاوہ ہر وہ چیز جو خون بہائے اس سے ذبح کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 20976
٢٠٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن سعيد (بن) (١) مسروق عن ⦗١٨٩⦘ (عباية) (٢) بن رفاعة عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول اللَّه إنا نلقى العدو غدا وليس معنا مدى؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: " (أرن) (٣) أو (٤) (أعجل) (٥) ما أنهر الدم (وذكر) (٦) اسم اللَّه عليه فكلوا، ما لم يكن سن أو ظفر، وسأحدثكم عن ذلك، أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبشة" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبایہ بن رفاعہ کے دادا فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کل دشمن سے ہمارا سامنا ہوگا اور ہمارے پاس کوئی چھری وغیرہ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسے ذ بح کرو اور جلدی سے اس کی جان نکالو۔ ہر وہ چیز جو خون بہائے اور خون بہاتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھالو البتہ دانت اور ناخن کا استعمال نہ کرو ۔ میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ والوں کی چھری ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [س]: (عبابه).
(٣) في [ب]: (أذن).
(٤) في [جـ، س، ط، هـ]: (أو)، وفي [أ، ب، ز، ك]: (و).
(٥) في [أ، ب، ز، ك]: (عجل).
(٦) في [أ، ب]: (واذكر).