مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في ما قذف به البحر وجزر عنه الماء باب: اگر سمندر مچھلی کو باہر پھینک دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
٢٠٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن أبي الزبير عن جابر قال: (بعثنا) (١) النبي ﷺ (٢) مع أبي عبيدة في سرية (فنفد) (٣) زادنا، (فمررنا) (٤) بحوت قد قذفه البحر، فأردنا أن نأ كل منه، فنهانا أبو عبيدة ثم قال: نحن رسل رسول اللَّه ﷺ وفي سبيل اللَّه ﵎ (٥) كلوا فأكلنا، قال: فلما قدمنا (على) (٦) رسول اللَّه ﷺ ذكرنا ذلك فقال: "إن كان بقي معكم منه شيء فابعثوا به إلي" (٧).حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک لشکر میں روانہ کیا اس سفر میں ہمارا توشۂ سفر ختم ہوگیا۔ اس اثناء میں ہم نے ایک (بہت بڑی) مچھلی دیکھی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھانے کا ارادہ کیا تو پہلے تو حضرت ابو عبیدہ نے ہمیں منع کردیا پھر فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم اللہ کے راستے میں ہیں۔ اس مچھلی کو کھالو۔ چناچہ ہم نے اسے کھالیا۔ پھر جب ہم واپس آئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اس مچھلی کا کچھ حصہ تمہارے پاس ہو تو مجھے بھی دو ۔