مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في الطافي باب: وہ مچھلی جو سمندر میں مر جائے اور خراب ہو جائے اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20926
٢٠٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كره من السمك ما يموت في الماء، إلا أن يتخذ الرجل (حظيرة) (١) فما دخل فيها فمات فلم ير (بأكله) (٢) بأسًا.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے سمندر میں مرنے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی مچھلی آدمی کے جا ل میں پھنس کرمرے تو وہ جائز ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (حفرة)، وفي [أ، ب]: (حظرة).
(٢) في [س]: (أكله).