حدیث نمبر: 20889
٢٠٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: نا مكحول أن رجلًا أتى فضالة بن عبيد صاحب رسول اللَّه ﷺ بعصافير صادهن بمعراض، (فمنها) (٢) ما جعله في (مخلاته) (٣)، ومنها ما جعله في خيط فقال: هذا ما (أصدت) (٤) بمعراض، منها ما أدركت ذكاته، ومنها ما لم أدرك ذكاته فقال: ما أدركت ذكاته فكل، وما لم تدرك ذكاته فلا (تأكله) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ایک آدمی صحابی رسول حضرت فضالہ بن عبید کے پاس کچھ پرندے لے کر آیا جنہیں اس نے معراض سے شکار کیا تھا۔ ان میں سے بعض اس نے تھیلے میں رکھے تھے اور کچھ دھاگے سے باندھ رکھے تھے۔ اس نے کہا کہ ان میں سے کچھ کو میں نے ذبح کیا ہے اور کچھ ذبح کرنے سے پہلے مرگئے۔ حضرت فضالہ نے فرمایا کہ جنہیں تم نے ذبح کیا ہے انہیں کھالو اور جنہیں تم نے ذبح نہیں کیا انہیں مت کھاؤ۔
حواشی
(١) في [ح]: (عن).
(٢) في [جـ]: (منها).
(٣) في [س]: [نخلانه)، وفي [ط]: (نجلاته).
(٤) في [جـ]: (صدت).
(٥) في [ز، ك]: (فكله)، وفي [جـ]: (تأكل).
(٦) معلول، يرى أهل الحديث أن أبا أسامة يروي عن ابن تميم الضعيف لا ابن جابر.