مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
إذا رمى صيدا فوقع في الماء باب: اگر شکار کو تیر لگے اور وہ پانی میں گر جائے
حدیث نمبر: 20859
٢٠٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق قال: قال عبد اللَّه: إذا رميت (طيرًا) (١) فوقع في ماء فلا تأكل، (فإني) (٢) أخاف أن (يكون) (٣) الماء قتله، و (إن) (٤) رميت صيدا وهو على جبل فتردى فلا تأكله فإني أخاف (أن) (٥) (٦) التردي (٧) أهلكه (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کو تیر مارو اور وہ پانی میں گرجائے تو اسے مت کھاؤ، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اسے پانی نے نہ مار ڈالا ہو اور اگر تم شکار کو تیر مارو اور وہ پہاڑ سے گرجائے تو اسے مت کھاؤ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں گرنے کی وجہ سے اس کی موت واقع نہ ہوئی ہو۔
حواشی
(١) في [خ، ع]: (صيدًا).
(٢) في [أ، ب، ط، ك]: (وإني).
(٣) في [جـ، ز، ك]: زيادة (يكون).
(٤) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: (إذا).
(٥) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٦) في [جـ]: زيادة (يكون).
(٧) في [أ، ب]: زيادة (الذي).