مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20858
٢٠٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن سعيد بن جبير عن عدي بن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن الصيد أرميه فأطلب الأثر بعد ليلة قال: "إذا وجدت سهمك فيه ولم يأكل ⦗١٦٢⦘ منه سبع فكل" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر میں شکار پر تیر چلاؤں اور وہ اگلے دن ملے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ اگر تمہارا تیر اس میں پیوست ہو اور اس کو کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاسکتے ہو۔