مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20857
٢٠٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي أن عدي بن حاتم قال: يا رسول اللَّه! أحدنا يرمي الصيد فيقتفي أثره اليومين والثلاثة ثم يجده ميتًا (١) فيه سهمه أيأكل؟ قال: "نعم إن شاء" أو قال: "يأكل إن شاء" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شکار پر تیر چلاتا ہے اور دو تین دن تک اسے تلاش کرتا ہے، وہ شکار اسے مردہ حالت میں ملتا ہے اور تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہے تو اسے کھا سکتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: زيادة (و).