مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20856
٢٠٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبيدة بن حميد عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: سأله رجل فقال: إني أرمي الصيد؛ فيغيب عني ثم أجده بعد ذلك، فقال له سعيد: إن وجدته وليس فيه إلا سهمك فكل، وإن لا فلا تأكل.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی عمرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ میں اگر شکار کو تیر ماروں اور وہ مجھ سے غائب ہوجائے اور پھر بعد میں مل جائے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اس میں صرف تمہارے تیرکا نشان ہو تو کھالو اور اگر اس کے علاوہ بھی کچھ ہو تو مت کھاؤ۔