مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20849
٢٠٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن (الأجلح) (١) عن عبد اللَّه ⦗١٦٠⦘ ابن أبي الهذيل قال: (سمعت) (٢) ابن عباس وسأله عبد أسود فقال له: يا أبا عباس! إني أرمي الصيد فأصمي وأنمي فقال: ما أصميت فكل وما (أنميت) (٣) فلا تأكل (٤).مولانا محمد اویس سرور
ایک حبشی غلام نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر میں کسی جانور پر تیر چلاؤں اور میں اسے اپنے تیر سے ہلاک کر دوں یا تیر لگنے کے بعد وہ کسی اور وجہ سے ہلاک ہو تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر وہ تمہارا تیر لگنے سے ہلاک ہو تو کھالو اور اگر بعد میں ہلاک ہو تو اسے مت کھاؤ۔
حواشی
(١) في [جـ]: (الأملح).
(٢) في [س، ط، هـ]: (سألت).
(٣) في [ك]: (نميت).