مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20848
٢٠٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء فقال: إني أرمي الصيد فيغيب عني ثم أجد سهمي فيه من الغد أعرفه فقال: أما أنا فكنت آكله (٢).مولانا محمد اویس سرور
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں ایک جانور کو تیر ماروں اور وہ مجھ سے غائب ہوجائے، اگلے دن وہ مجھے ملے اور اس میں میرا تیر ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے ساتھ ایسا ہو تو میں کھا لوں گا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].