مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
٢٠٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن موسى بن أبي عائشة عن أبي (رزين) (١) قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ بأرنب فقال: إني رميت أرنبًا فأعجزني طلبها حتى أدركني الليل، فلم أقدر عليها حتى أصبحت، فوجدتها وفيها ⦗١٥٩⦘ سهمي فقال: "أصميت أو أنميت؟ " (٢) قال: لا بل أنميت قال: "إن الليل خلق من خلق اللَّه عظيم، لا يقدر (خلقه) (٣) إلا الذي خلقه، لعله (أعان) (٤) على قتلها شيء أنبذها (عنك) (٥) " (٦).حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا اس نے کہا کہ میں نے ایک خرگوش کو تیر مارا، میں اسے تلاش نہ کرسکا یہاں تک کہ رات ہوگئی، صبح وہ خرگوش مجھے مل گیا اور اس میں میرا تیر تھا، اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اسے اسی وقت مار دیا تھا یا وہ بعد میں کسی اور عارض سے مرا تھا ؟ اس نے کہا، نہیں، وہ بعد میں مرا تھا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ رات اللہ کی ایک عظیم مخلوق ہے، اس کی حقیقت سوائے اس کے خالق کے کوئی نہیں جان سکتا، شاید اس خرگوش کو کسی اور چیز نے مارا ہو اس لیے اسے پھینک دو ۔