مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يأخذ الصيد وبه رمق، ما قالوا في ذلك؟ وما جاء فيه؟ باب: اگر کوئی آدمی شکار کو پکڑے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20797
٢٠٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سهل بن يوسف عن شعبة قال: سألت الحكم عن الرجل يدرك الصيد وبه رمق، فيدع الكلب حتى (يقتله) (١) قال: لا يأكل.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی شکار کو پہنچے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو لیکن اس کا کتا اسے مار ڈالے تو اس شکار کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے مت کھائے۔
حواشی
(١) في [ز، ك]: (يقلبه).