مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يأخذ الصيد وبه رمق، ما قالوا في ذلك؟ وما جاء فيه؟ باب: اگر کوئی آدمی شکار کو پکڑے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20796
٢٠٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: إذ كنت في تخليص الصيد فسبقك بنفسه، فلا بأس أن (تأكله) (٢)، وإن تربصت به فمات فلا (تأكله) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم شکار تک پہنچنے کی کوشش کرو اور وہ تمہارے پہنچنے سے پہلے مرجائے تو اس کھانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تم اسے پکڑ لو اور تمہیں ذبح کرنے کا موقع بھی ملے لیکن تم اس کو ذبح نہ کرو تو اب اسے مت کھاؤ۔
حواشی
(١) سقط من: [ز، ك].
(٢) في [ط]: (تأكل).
(٣) في [ب]: (تأكل).