مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الرجل يأخذ الصيد وبه رمق، ما قالوا في ذلك؟ وما جاء فيه؟ باب: اگر کوئی آدمی شکار کو پکڑے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20795
٢٠٧٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أنه رمى (دبسيًا) (٢) بحجر (فصرعه) (٣) (فأخذ) (٤) عبد اللَّه (يعالجه) (٥) (بقدوم) (٦) معه ليذبحه، فمات في يده قبل أن يذبحه فألقاه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع رحمہ اللہ نے ایک کبوتر کو پتھر مارا اور اسے گرا دیا، انہوں نے اسے پکڑ کر اپنے پاس موجود ایک تیشہ اس کی گردن پر پھیرا تاکہ اسے ذبح کردیں لیکن وہ ان کے ذبح کرنے سے پہلے مرگئی تو انہوں نے اسے پھینک دیا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) نوع من الطيور، وفي [أ، ب]: (دلسًا)، وفي [هـ]: (ولسًا)، وفي [س]: (حدثنا).
(٣) في [جـ، ز، ك]: زيادة (فصرعه).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فأخذه).
(٥) في [أ، ب]: (فعالجه).
(٦) في [أ، ب]: (يقدوم).