مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
إذا نسي أن يسمي ثم سمى قبل أن يقتل باب: اگر کوئی آدمی شکاری جانور کو روانہ کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول گیا لیکن شکار کے مرنے سے پہلے اس نے بسم اللہ پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20767
٢٠٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن عامر قال: إذا أرسلت كلبك أو سهمك فنسيت أن تسمي -أي حين ترسله- ثم سميت قبل أن (تأخذه) (١) فلا تأكل، حتى (تسمي) (٢) حين ترسله.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے کتے یا تیر کو شکار کی طرف روانہ کرو اور اس وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جاؤ۔ پھر بعد میں وہ تیر یا کتا شکار تک پہنچے تو تم اس شکار کو نہیں کھا سکتے۔ اس لیے کہ یہ بات ضروری ہے کہ تم اسے روانہ کرتے وقت بسم اللہ پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (يأخذه).
(٢) في [جـ]: (سمي).