مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الكلب يرسل على (صيده) (فيعتقبه) غيره باب: اگر کوئی آدمی اپنے کتے کو کسی شکار پر چھوڑے اورکوئی دوسرا کتا بھی اس کے پیچھے لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
٢٠٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (جميل) (١) بن زيد قال: سألت ابن عمر عن صيد الكلاب فقال: أليست مقلدة؟ قال: (قلت) (٢): (بلى) (٣) انطلقت أقودها! قال: أكلها تقود؟ قال: قلت: منها ما أقود ومنها ما يتبعني، قال: إذا رأيت الصيد و (خلعت) (٤) كلبك، وذكرت اسم اللَّه، فكل ما (أصاد) (٥)، (وأما الكلب) (٦) التابع فإن اخذه فلا (تلبس) (٧) به إلا أن (تجده) (٨) حيًا فتذبحه، وإما أن ⦗١٤٢⦘ يفرسه كلب لم ترسله (فقتله) (٩) (فذلك) (١٠) حرام (١١).حضرت جمیل بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کتوں کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا انہیں شکار کے لیے سدھایا گیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! اور میں ان کے پیچھے چلتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ سب کتے تمہارے آگے چلتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں کچھ میرے پیچھے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم کوئی شکاردیکھو اور اپنے کتے کو اس پر چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو جو شکار وہ کرے وہ کھالو۔ البتہ اگر تمہارے پیچھے آنے والا کتا بھی شکار کرے تو اسے ان کے ساتھ نہ ملاؤ اگر وہ شکار تمہیں زندہ مل جائے تو اسے ذبح کرلو، اگر تم نے کتے کو نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اسے خود شکار کیا اور مار ڈالا تو یہ حرام ہے۔