مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
من رخص في أكله (وإن أكله) باب: جن حضرات نے اس بات کی رخصت دی ہے کہ اگر شکاری کتا شکار میں سے کھا لے تو پھر بھی اسے کھا سکتے ہیں
حدیث نمبر: 20750
٢٠٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير ووكيع عن بن أبي ذئب عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج عن حميد بن مالك قال: سألت سعد بن أبي وقاص قلت: إن لنا كلابًا (ضواريًا) (٢) نرسلها على الصيد فتأكل وتقطع، فقال: (كل) (٣) وإن لم يبق إلا بضعة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حمید بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہمارے شکاری کتے ہیں، ہم انہیں شکار پر چھوڑتے ہیں، وہ اس میں سے کچھ کھالیتے ہیں تو کیا ہمارے لیے اس کو کھانا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم اس میں سے کھالو خواہ وہ صرف ایک ٹکڑا ہی باقی چھوڑیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (بكر).
(٢) في [جـ]: (ضوري).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: زيادة (قل).