مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
ما (قالوا) في الكلب يأكل من صيده؟ باب: کیا کتے کا شکار کیا ہوا جانور کھانا جائز ہے
حدیث نمبر: 20747
٢٠٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حجاج عن مكحول عن أبي ثعلبة الخشني (و) (١) عن الوليد بن أبي مالك عن (عايذ) (٢) اللَّه أنه سمع أبا ثعلبة الخشني قال: قلت يا رسول اللَّه! إنا أهل صيد، قال: "إذا أرسلت كلبك وذكرت اسم اللَّه عليه (فأمسك عليك) (٣) فكل"، (قال) (٤): قلت، وإن قتل؟ قال: " (وإن قتل" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم شکاری لوگ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لو، اگر وہ شکار کو روک لے تو تم اسے کھالو، میں نے کہا خواہ وہ اسے مار ڈالے ؟ آپ نے فرمایا ہاں خواہ وہ اسے مار ڈالے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ز، س، ط، ك].
(٢) في [ب، ز، س، ط، ك]: (عابد).
(٣) سقط من: [ف].
(٤) في [أ، ب، ز، ك]: زيادة (قال).
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس وقد عنعن، أخرجه أحمد (١٧٧٣٣)، والترمذي (١٤٦٤)، وأصله عند البخاري (٥٤٨٨)، ومسلم (١٩٣٠ - ١٩٣١).