حدیث نمبر: 20686
٢٠٦٨٦ - حدثنا ابن نمير نا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: سئل الأسود عن الرجل يجعل له ويجعل هو أقل مما جعل له (ويستفضل) (١) قال: لا بأس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی مجاہد کو مال غنیمت میں غیر مجاہد سے زیادہ حصہ ملے لیکن وہ اس زیادہ حصے کو کم سمجھے اور زیادہ کا مطالبہ کرے تو یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، حضرت شریح رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو تمہیں شک میں نہ ڈالے اسے اپنا لو۔
حواشی
(١) في [س]: (تستفصل).